حج یا عید الاضحی کے موقع پر قربانی دین کےشعائرمیں سےایک اہم شعاراور عظیم عبادت ہےہی نہین حضرت ابراہیم ؑ کی یادگار بھی ہے، اسلام نےجانور کو خالص اللہ کے لئے قربان(ذبح) کرنے کا حکم دیا اور غیر اللہ کے لئے ذبح کئے جانے والے جانور کے گوشت کو حرام قراردیا جانور پراللہ کا نام نہ لینے کی چند صورتیںہیں مثلاً، جانور طبعی موت مرے، یا کسی حادثہ وغیرہ کا شکارہوجائے یا جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جا ئے، قرآن کریم میں ان تمام صورتوں کو ناجائز اور حرام قرار دیاگیا ہے، قربانی اللہ کی رضاجوئی اور اس کی خوشنودی کا ایک اہم ذریعہ ہےاسلئے حدیث میں جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عید الاضحی کےایام میں قربانی سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک پسند یدہ نہیں ہے قربانی شریعت ِ مطہر ہ کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی پوری وضاحت سنت نبوی میں موجود ہے، اور یہ وہ عظیم الشان عمل ہےجسے اللہ کےﷺنے سنت ابراہیمی سےتعبیرکیاہے، اللہ رب العزت نےان کی اس عظیم قربانی کو قیامت تک کے لئے یادگار بنا دیا، اور پوری امت میں اس کو جاری فرمایا، قرآن مجید میں اللہ نے اپنے پیارے نبی ﷺکو حکم دیا ہے ’’فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ‘‘ اے محمد ﷺ اپنے رب کے لئے نماز (عید) پڑھو اور نحر کرو (جانور کی قربانی کرو) اس امرِ خداوندی کو بجالاتے ہوئے رسو ل اللہ ﷺ نے ہر سال قربانی کرنے کا اہتمام فرماتے تھے، اور صحابہ کرام کو بار ہا اس کی تاکید فرماتے تھے قربانی عبدیت اور تواضع و انکساری کا مظہر ہے، جس سےتکبر اور بڑائی دل سے نکلتی ہے ایک مسلمان بغیر چون چرا کے محض اپنے رب کے حکم کو بجالاتےہوئے جانور کو ذبح کرتاہے، اس کے پیش نظر قربانی کی حکمتیں نہیں ہوتیں کہ جانور ذبح کیوں کیاجارہا ہے-

اس سے انسان کوکیا فائدہ ہوگا وغیرہ، اس کے دل و دماغ میں صرف حکمِ خداوندی کی تعمیل ہوتی ہے، جس کو بجالانا وہ اپنی سعادت اور خوش بختی تصور کرتا ہے ، جب حضرت ابراہیم ؑ کو بذریعہ خواب اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تو انہوں نے اللہ سے حکم کی حکمت نہیں پوچھی، بلکہ حکمِ خداوندی کی تعمیل میں اپنے بیٹے کو اس پر آمادہ کرکے گلے پر چھری چلادی، تعمیل حکم کا یہ انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ قیامت تک کے لئے اس کو جاری فرمادیا، امام غزالی ؒ فرماتےہیں کہ زمین کو جوتتے وقت جانور کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ زمین کیوں جُوتی جارہی ہے، اسے تو صرف یہ پتہ ہوتا ہےکہ اس سے کچھ کام لیا جارہا ہے، یعنی جانور کو حکم کا پتہ ہوتا ہےحکمت کا پتہ نہیں، اور اپنے مالک کے حکم کو برابر بجالاتا ہے، (کیمیائے سعادت) قربانی کے وقت ہم ہزاروں جانور محض خالق ِ کائنات کے حکم پر ذبح کرتےہیںتو اس سے عبدیت کا اظہار ہوتا ہے، یہی عبدیت زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے، کاش کہ ہم اس بات کو سمجھتے ۔

اخلاص اور حسن نیت عمل صالح کے مقبول ہونے کے لئے اولین شرط ہے، جو شخص نام و نمود اور سستی شہرت حاصل کرنے کےلئے عمل صالح کرتاہے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کے عمل کی کوئی وقعت نہیں ہے، قیامت کے روز یہ عمل سرابِ محض ثابت ہوگا، قربانی جیسے عظیم الشان عمل کو انجام دیتے وقت تصحیح نیت پر کافی زور دیا گیا ہے، ، قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے، چنانچہ اللہ رب العزت نے فرمایا: ’’لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ‘‘ اللہ کو ہرکز تمہارے جانور کا گوشت اورخون نہیں پہنچے گا بلکہ اس تک تو تمہارے دلوں کاتقوی( نیت) پہنچے گی (الحج 37 ) یہی حکم دوسری تمام عبادات کا ہے کہ نماز کی نشست و برخاست کرنا اور بھوکا پیاسا رہنا اصل مقصود نہیں؛ بلکہ مقصود اصلی اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل دلی اخلاص و محبت کے ساتھ ہے، اگر یہ عبادات اس اخلاص و محبت سے خالی ہیں تو صرف صورت اور ڈھانچہ ہے روح غائب ہے ؛مگر عبادات کی شرعی صورت اور ڈھانچہ بھی اس لئے ضروری ہے کہ حکم ربانی کی تعمیل کیلئے اس کی طرف سے یہ صورتیں متعین فرما دی گئی ہیں(معارف القرآن جلد6 ص267) اسلام میں تصحیح نیت کی بڑی اہمیت ہے بلکہ اُسی پر تمام اعمال کا مدار رکھا گیا، قربانی جیسی عظیم عبادت کے ذریعہ یہ چاہا جارہا ہےکہ زندگی کے تمام اعمال صحیح نیت کے ساتھ ادا ہو اور ہر عمل اس خالق ومالک کے لئےخاص ہو جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا۔

قربانی قرب سے مشتق ہے اور قربانی کے ذریعہ بندہ اللہ عز و جل کا قرب حاصل کرتا ہے، قربانی کی اس عمل سے ہمیں یہ پیغام دیا جارہا ہےزندگی کے ہرلمحہ اللہ کے قرب کی فکر کرنی چاہئے اور قرب ِ خداوندی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنا چاہئے، جیسے حضرت ابراہیم اللہ کی محبت اور اس کی رضاو خوشنودی کے لئے اپنا گھر بار، ملک و وطن، عزیز و اقارب، بیوی بچےسب کچھ قربان کردئےحتی کہ اپنے بیٹے(جو بڑھاپے کا سہارا، ضعیفی کا آسراتھا) کے گلے پر چھری چلانے سے بھی تامل نہیں کئے، اور پوری دنیا کےانسانوں کے لئے ایک مثال قائم کردی،اور یہ بتلادئے کہ قربانی محض جانور کے گلے پر چھری چلانے اور اس کا خون بہانے کا نام نہیں بلکہ قربانی اپنی خواہشات اور جذبات کو قربان کرنے اور اپنی محبوب ترین چیزوں کو اللہ کے راستہ میں لٹانے اور اپنی قوت و توانائی کو اس کے دین کی خدمت میں صرف کرنے اور نفس کو طاعات کی طرف پھیرنےکا نام ہے، اور جب تک اس طرح کی کیفیت پیدا نہ ہو قربانی کا اثر ہماری زندگی میں ظاہر نہیں ہوگا اور جسے قربِ خداوندی کی یہ دولت نصیب ہوجاتی ہے تو کم از کم اس کا حال یہ ہوتا ہےکہ اسے ہمیشہ اللہ کا دھیان رہتا ہے،اور اس کے تفویض کردہ تمام فرائض و احکام کی بجا آوری میں اس سے کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی سرزد نہیں ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ قربانی کے صحیح ہونے کے لئے جانور کا شریعت کے مقررکردہ عمر کو پہنچنا اور صحت مند ہونا ضروری ہے، عیب دار جانور کی قربانی شریعت مطہرہ میں ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، اس سے ہمیں یہ تربیت دی جارہی ہے کہ اللہ کے راہ میں خرچ کئے جانے والا مال حلال اور طیب ہو چنانچہ قرآن مجید میں اللہ نے ارشادفرمایا: ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ‘‘ اے ایمان والو!خرچ کرو اپنی کمائی میں سے اور زمین کی پیداوار میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں ( البقرۃ 267) جس طرح اہتمام سے جانور کو جانجا اور پرکھا جا تا اور عمدہ سے عمدہ جانور قربانی میں دینے کی فکر کی جاتی ہے ۔

جانور کو ذبح کرنے کے بعدشریعت مطہرہ میں گوشت کی تقسیم کے سلسلہ میں تین حصے بنانے کا حکم دیا گیا، ایک حصہ غرباء و مساکین کے لئے دوسرا حصہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لئے اور تیسرا حصہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کےلئے، اگرچہ یہ حکم استحبابی ہے لیکن اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ زندگی کے تمام امور میں انصاف کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑے رہناچاہئے اور انصاف کے تقاضوں کو ہمیشہ پورا کرتے رہنا چاہئے، یہی آپسی محبت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے اورتقوی کے زیادہ لائق اور مناسب ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت اس وقت تک سر سبز رہے گی اب تک اس میں تین خصلتیں باقی رہیں گی ایک تو یہ کہ جب وہ بات کریں تو وہ سچ بولیں گے دوسرا جب وہ فیصلہ کریں گے تو انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں گے تیسرا یہ کہ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو کمزور پر رحم کریں گےباور عدل وانصاف کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑے رہنے والوں کی ہمت افزائی کرتے ہوئےآپ ﷺ ارشاد فرمایا انصاف کرنے والوں کو قرب الہی میں نوری ممبر عطا ہوں گے( مسلم شریف کتاب الامارۃحدیث نمبر1828 ) پھریہ کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریبوں، مسکینوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کا حق بھی رکھا گیا ہے جس پتہ چلتا ہےایام قربانی میں جس طرح دوسروں کا خیال رکھا جاتا ہےاسی طرح زندگی کےتمام مراحل میں ایک دوسری کی مدد اور دلجوئی کرنا چاہئے کیونکہ اسلام ہمدردی اور خیرخواہی کانام ہے، قربانی کے اس عمل کے ذریعہ ہم کو یہ ادب سکھایا جارہا ہے اور ہم سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ ہر حال میں محتاجوں کی مدر کرنا اور ان کی ضرورتوں کی تکمیل کرنا عبادت کے بعد سب سے اہم حکم ہے، اسی لئے قرآن و حدیث میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرکے بتلادیا ہے کہ دوسروں کی ہمدردی اور دلجوئی کرکے بندہ قربِ خداوندی کے اس بلند مرتبہ پر فائز ہوتا ہے جو دیگر اعمال کے ذریعہ بڑی مشکل سے حاصل ہوتے ہیں، اس نفسا نفسی کے دور میں ہمدردی اور غمخواری، دلجوئی اور دلچسپی جیسے صفات کی اشد ضرورت ہے۔

غرض یہ کہ قربانی اللہ تعالی کی وہ عظیم عبادت ہے جس کے ہر پہلومیں انسان کے لئے کچھ نہ کچھ نصیحتیں موجود ہیں، جس پر عمل کرکے انسان اپنے اندرونی نظام کی اصلاح کرسکتا ہے، جب تک بندہ کے اندر قربانی کے جانور کی طرح اپنے آپ کو مٹانے کا جذبہ پیدا نہ ہو اس وقت تک وہ بارگاہِ رب العالمین میں مقبول نہیں ہوگا، اور قربانی کے اس پورے عمل سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ اپنا سب کچھ یہاں تک کہ اپنے جذبات اور خواہشات کو بھی اللہ کے لئے قربان کرنا اوراپنے کو کمتر اور حقیر سمجھ کر زندگی گذارنا یہی حقیقی مومن کی نشانی ہے اور ایسے ہی بندہ کو خالق کائنات کی رضا و خوشنودی میسر ہوتی ہے۔