عکاظ اردو جدہ
مکہ مکرمہ میں واقع مدرسہ «صولتیہ» کا شمار جزیرہ عرب کے قدیم ترین مدارس میں ہوتا ہے۔ اسے ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے 1873ء میں قائم کیا۔ مدرسہ صولتیہ کے قیام سے قبل مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کی سرپرستی میں محدود پیمانے پر قرآن کریم کی علمِ تجوید کی تعلیم کا انتظام تھا۔ بعد ازاں «صولت النساء» نامی ایک ہندوستانی خاتون نے باقاعدہ مدرسے کے قیام کے واسطے زمین خرید کر عطیہ کر دی۔ اسی نسبت سے مدرسے کو «صولتیہ» کا نام دیا گیا۔

حجاز کی تاریخ کے محقق یاسر العامر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو واضح کیا کہ مدرسہ صولتیہ کے بانی مولانا کیرانوی 1854ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ پہنچے تھے۔ یہاں وہ درس و تدریس میں مصروف ہو گئے۔ ان کے شاگردوں میں حجاز میں ہاشمی ریاست کے بانی شریف حسین اور مکہ مکرمہ میں شیخ العلماء شیخ عبداللہ سراج وغیرہ جیسی اہم شخصیات شامل رہی ہیں۔

کئی برس تدریس کے بعد مولانا کیرانوی نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسا مدرسہ قائم کیا جائے جو دینی علوم اور عربی زبان پھیلانے کا مرکز ہو۔ اس وقت مسجد حرام اور بعض مکاتب قرآن کے سوا تعلیم کا کوئی باقاعدہ مدرسہ نہیں تھا۔ اس طرح مولانا کیرانوی ہندوستانی خاتون صولت النساء کی معاونت سے حجاز میں پہلا باقاعدہ دینی مدرسہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کو مکہ ایک محلّے الشبکیہ میں تعمیر کیا گیا اور افتتاحی تقریب میں مکہ کے علماء اور بعض چیدہ شخصیات نے شرکت کی۔

یہ مدرسہ 2010ء تک اپنی جگہ قائم رہا یہاں تک کہ حرمِ مکی کی توسیع کے سبب اسے مکہ کے جنوب میں الکعکیہ کے علاقے میں منتقل کرنا پڑا۔

مدرسہ صولتیہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے طلبہ ، علماء اور قضاہ کے فارغ التحصیل ہونے کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج بھی مدرسہ صولتیہ نے اپنی بعض کلاسوں میں قدیم زمانے میں حرمین شریفین ، جامعات اور مکاتب کی طرز پر دو زانو ہو کر بیٹھنے کا پر مشقت طریقہ کار اپنایا ہوا ہے جو علم کے حصول میں اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔ یہ طریقہ علم کی طلب کے دوران استاد کے لیے طالب علم کے احترام اور توقیر کا اظہار کرتا ہے۔ مدرسے میں پرائمری ، سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ کے درجوں کی کلاسوں کا بھی انتظام ہے۔